سسٹم سائز کا حساب کیسے ہوتا ہے
سارا حساب ایک فارمولے پر ہے: کلوواٹ برابر ہے روزانہ یونٹس تقسیم (دھوپ گھنٹے ضرب کارکردگی تناسب)۔ روزانہ یونٹس ماہانہ یونٹس کو تیس پر تقسیم کر کے ملتے ہیں۔ کارکردگی تناسب (ہم 0.8 لیتے ہیں) وہ حقیقتیں شامل کرتا ہے جو اشتہارات میں نہیں ہوتیں: انورٹر کا نقصان، گرمی، مٹی اور تاروں کا نقصان۔
مقام سب کچھ بدل دیتا ہے
وہی آٹھ سو یونٹ والا گھر کراچی میں تقریباً سات کلوواٹ مانگتا ہے مگر برلن میں تقریباً بارہ — فرق صرف دھوپ گھنٹوں کا ہے۔ یہ کیلکولیٹر معروف شہروں کا درست ڈیٹا اور باقی دنیا کے لیے عرض بلد کا ماڈل استعمال کرتا ہے۔
چھت کی جگہ کا اصول
روایتی تنصیب میں فی کلوواٹ تقریباً ساٹھ تا ستر مربع فٹ جگہ درکار ہوتی ہے، جس میں صفائی کے راستے شامل ہیں۔ تنگ چھتوں پر زیادہ کارکردگی والے پینل کم جگہ میں زیادہ بجلی دیتے ہیں۔
ہر سو ماہانہ یونٹس کے لیے کتنے کلوواٹ سولر چاہیے؟
دھوپ والے علاقوں میں تقریباً 0.8 تا 1 کلوواٹ فی سو یونٹ، اور کم دھوپ والے علاقوں میں زیادہ۔ یہ کیلکولیٹر آپ کے مقامی دھوپ گھنٹوں سے درست عدد نکالتا ہے۔
تجویز کردہ سائز حساب سے بڑا کیوں ہوتا ہے؟
دس فیصد اضافی گنجائش مستقبل کے لوڈ اور پینلز کی وقت کے ساتھ فطری کمی کو پورا کرتی ہے۔
دھوپ گھنٹے (پیک سن آورز) کیا ہیں؟
پورے دن کی دھوپ کو مکمل شدت کے برابر گھنٹوں میں ناپنے کا پیمانہ۔ کراچی کا اوسط تقریباً 5.3 اور لندن کا 2.8 ہے۔